چھوٹے گھروں میں کرونا کے مریض کی آئسو لیشن کیسے کی جائے؟

Read this post in English

جو لوگ اپنے گھروں پر کرونا کی وجہ سے آئسو لیشن میں ہیں انہیں اور ان کے گھر والوں کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے- عام لوگوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ احتیاط کرنی پڑے گی- اگر مریض کو الگ کمرے میں نہ بھی رکھا جاسکے تب بھی گھبرانے کی کوئ بات نہیں ہے

مریض کو کمرے میں ایک کونے میں بستر لگا کر رکھا جائے


اس کے ذاتی استعمال کی چیزیں الگ ہونی چاہیئں- گھر کا کوئ دوسرا فرد انہیں استعمال نہ کرے


اس کمرے میں انتہائ ضرورت کے بغیر دیگر لوگ نہ آئیں


کمرے میں موجود سب لوگ ماسک لگا کررکھیں


دن میں کئ بار صابن سے ہاتھوں کو دھوئیں


ہر فرد سینی ٹائزر استعمال کرے اگر پانی کا مسئلہ ہو


مریض کے ساتھ کھانا نہ کھائیں


کوشش کریں کہ مریض سے چھ فٹ کے فاصلے پر رہیں


اگر کمرے سے متصل واش روم ہو اور مشترکہ ہو تو استعمال کے فوری بعد بلیچ اور پانی سے اس کی صفائ کی جائے


اگر مریض کو تیز بخار، کھانسی اور جسم میں درد جیسی علامات زیادہ ہوں خاص طور پر سانس لینے میں دشواری ہو تو فوری طور پر صوبائ حکومت کے جاری کردہ مخصوص نمبروں پر رابطہ کیا جائے تاکہ ڈاکٹر رہنمائ کرسکے اور بوقت ضرورت حسن اسکوائر کے قرنطینہ یا پھر کسی بڑے ہسپتال منتقل کرنے کے انتظامات کیئے جاسکیں


کرونا کا ٹیسٹ مثبت آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مریض کوئ خوفناک بلاء بن گیا ہے- 90 فیصد سے زیادہ مریض دو ہفتوں میں خود بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں اور نارمل زندگی گذارنے لگتے ہیں


خطرہ ان کو ہوتا،ہے جن پر مرض کا حملہ زیادہ سخت ہوتا ہے اور بدقسمتی سے جو اس مرض کو چھپاتے ہیں- اگر مریض اور اس کے گھر والے مرض کو نہ چھپائیں اور بذریعہ فون سرکاری ڈاکٹروں کے رابطے میں رہیں تو یقین جانیئے کہ کسی قسم کے خوف کی کوئ ضرورت نہیں ہے


بخار ہو تو ہر چھ گھنٹوں کے بعد دو گولی پیناڈول لی جاسکتی ہے- کوئ دوسری دوا بغیر ڈاکٹر کی ہدایت کے استعمال نہ کریں


( ان ہدایات کو ماہرین اپنی رائے دے کر مزید بہتر بناسکتے ہیں)


ڈاکٹر فیاض عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published.