گھٹنے کی تبدیلی کا آپریشن کس کو کروانا چاہۓ

گھٹنے کی تبدیلی کا آپریشن
آرتھوپیڈک پریکٹس کے 40 سالوں کے بعد گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری کے بارے میں میری رائے درج ذیل ہے۔ دوسرے سرجنوں کی اپنی رائے ہوسکتی ہے اور ان کا میرے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
گھٹنوں کا گھساؤ ایک خاص عمر کے بعد تقریبا ہر شخص کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی ابتدا کی عمر، شدت اور بڑھنے کی رفتار مختلف لوگوں میں مختلف ہوسکتی ہے اور بہت سارے عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ بنیادی وجوہات کا خلاصہ ذیل میں کیا گیا ہے۔
 عمر بنیادی وجہ ہے۔ عمر کے بڑھنے ساتھ انسانی جسم میں خرابیوں کے از خود ٹھیک ہونے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ چوںکہ جوڑوں کا گھساؤ بڑھتی ہوئ عمر کا ایک حصہ ہے لہذا اسے بیماری نہیں کہا جاسکتا۔
 موٹاپا: موٹے افراد میں گھٹنوں کے جوڑ جلدی جلدی گھس جاتے ہیں۔

 ٹانگوں کا ٹیڑھا پن: اگر کسی وجہ سے کسی کی ٹانگیں ٹیڑھی ہیں، یعنی ٹخننے ملانے پر گھٹنے نہیں ملتے یا گھٹنے ملانے پر ٹخننے نہیں ملتے۔ ایسی صورت میں گھٹنوں کے ایک حصے میں دوسرے کے مقابلے میں زیادہ وزن اور زور پڑتا ہے اور وہیں پر گھساؤ کا عمل بھی زیادہ ہوتا ہے اور جلد انحطاط پذیر ہوتا ہے۔
 گھٹنوں کی چوٹ، فریکچر یا نرم ٹشو کی چوٹ یا مشترکہ چوٹ جس میں جوڑ کے اندر خون آجاۓ۔ گھٹنوں کی بظاہر معمولی چوٹ جس میں کرکری ہڈی یعنی کارٹلیج زخمی ہو۔ ان تمام چوٹوں کی وجہ سے گھٹنوں کے گھسنے کا عمل وقت سے پہلے شروع ہو جاتا ہے اور تیزی سے بڑھتا ہے۔
 دیگر جوڑوں کی بیماریوں مثلا گٹھیا کے نتیجے میں گھٹنوں کے گھسنے کا عمل جلد شروع ہو جاتا ہے۔
 کچھ جینیاتی عوامل جو ابھی تک نامعلوم ہیں۔ کچھ ستر سال کے لگ بھگ عمر کے مریضوں کو صرف معمولی گھساؤ ہوتا ہے اور دوسری طرف پینتالیس پچاس کی عمر کے والے افراد کے گھٹنے شدید گھساؤ سے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ اس کی وضاحت دوسرے عوامل کے ذریعہ نہیں ہو سکتی۔
گھٹنوں کے گھساؤ سے کم سے کم متاثر ہونے کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ قدرتی طرز زندگی اپنائیں اور صحت مند متوازن غذا استعمال کریں جس میں کافی سبزیاں اور پھل ہوں۔ پیدل چلنا جسم کے سارے نظاموں کے لئے فائدہ مند ہے، وزن کم کرتا ہے اور جوڑوں کی کرکری ہڈیوں کی بہتر پرورش میں مدد کرتا ہے۔ جب ضرورت ہو تو درد کے لئے دوائیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ چلنے کے لئے چھڑی یا واکر درد کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ہڈیوں ٹیڑھے پن کو سیدھا کرنے کے آپریشن کے نتیجے میں گھٹنوں کے حصوں پر وزن میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ عام طور پر “گھٹنے کی تبدیلی” کے آپریشن کی باری اس وقت آتی ہے جب دوسرے علاج کارگر نہ ہوں۔
گھٹنوں کے گھساؤ کے اہم مسائل درد اور معذوری ہیں۔ مریض کو اس وقت گھٹنے کی تبدیلی کا سوچنا ہوتا ہے جب یہ درد ناقابل برداشت ہوتا ہے کیونکہ دوسرے تمام علاج ناکام ہو چکے ہیں۔ اس آپریشن کے فوائد اور طریقہ کار کی متوقع پیچیدگیوں پر دھیان دینا ہوتا ہے۔
گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری میں، ران (فیمر) اور ٹانگ (ٹبیا) کی ہڈیوں کے گھٹنے کے اندر والے سرے کاٹ کر ان کی جگہ کو مصنوعی مواد (دھات اور پولی تھیلین) سے تبدیل کردیا جاتا ہے۔اس کا بنیادی فائدہ درد سے پاک متحرک جوڑ ہے۔
سرجری اور اینستھیزیا (بیہوشی کا عمل) میں تکنیکی ترقی کے ساتھ، پیچیدگیاں بہت کم ہیں۔ سرجری کے دوران اور آپریشن کے بعد ابتدائی مدت کے دوران پیچیدگیوں کے علاوہ، کسی کو طویل مدتی مسائل پر بھی غور کیا جاتا ہے۔ مریض اور لواحقین کے لئے مالی بوجھ ایک اہم مسئلہ ہے۔ کچھ لوگوں کے لئے آپریشن نہ کروانے کی یہ بنیادی وجہ ہوتی ہے حالاںکہ مریض کی تکالیف کی وجہ سہ یہ لازمی ہوتا ہے۔ گھٹنوں کی تبدیلی کے بعد نقلی جوڑ کی معمول کی زندگی 15 سال ہے۔ یہ ڈھیلا ہو سکتا ہے یا بعد میں تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔اگر انفیکشن (پیپ) ہو جائے تو مریض کے لئے تباہی ، رشتہ داروں کے لئے مایوسی اور سرجن کے لئے شکست کا باعث ہوتا ہے۔
میری رائے: بنیادی یعنی کسی اور وجہ کے بغیر گھٹنے کے گھساؤ میں گھٹنوں کی تبدیلی کا آپریشنزیادہ درد اور معذوری والے اور قریب قریب پینسٹھ سال کی عمر کے مریضوں میں آخری حل سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ادریس پاڈیلہ
سرجن جوڑوہڈی

2 thoughts on “گھٹنے کی تبدیلی کا آپریشن کس کو کروانا چاہۓ”

Leave a Comment

Your email address will not be published.