ڈاکٹر؛ ڈر سنانے والے اور خوشخبری دینے والے

ڈاکٹر؛ ڈر سنانے والے اور خوشخبری دینے والے
تمام انگلیاں ڈاکٹروں کی جانب کہ عوام میں کورونا جیسی بیماری کا خوف پھیلا رہے ہیں، ایسی بیماری جو نظر ہی نہیں آتی؟ تمھارے نشانہ صرف مساجد ہی کیوں تھیں؟ ڈاکٹر حکومت کے ہاتھوں استعمال ہو گئے، وغیرہ وغیرہ۔۔۔ یہ اس بات کا صلہ ہے کہ ڈاکٹروں نے پورے خلوص اور معلوم حقائق کی روشنی میں اپنی قوم کو ایک بھیانک خطرے سے خبردار کرنے کی کوشش کی۔ نہ کسی کے خلاف کوئی بات کی نہ کسی کو نشانہ بنایا۔ البتہ ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری ضرور نباہنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کورونا کی ہولناکی کو محسوس کیا اور قوم کو اپنے ملک کے معمولات، مروجہ طور طریقوں اور روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سے بچاؤ کی ممکنہ اشکال اور صورتوں کو سمجھانے کی سعی کی مگر صد افسوس یہ ایک سعی لاحاصل ثابت ہوئی اور عوام الناس نے اس کو کسی سازش کا حصہ قرار دے دیا۔ حکومت وقت کے گنجلک رویے اور دوہرے معیار نے اس کو اور بھی متنازعہ بنا دیا۔ کورونا کیا ہے، کہاں پیدا ہوا، کہاں سے برآمد ہوا، یہ یہودی سازش ہے یا بل گیٹس کی کوئی چال؟ یہ سب تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ شاید کبھی اس راز سے پردہ اٹھے لیکن بظاہر اسکے امکانات معدوم ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ ڈرائنگ روم میں لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے بہت سے سورماؤں کو ان تمام رازوں کا گھر بیٹھے ہی پتہ لگ گیا اور وہ اسکو اس یقین کے ساتھ بیان کرتے ہیں جیسے سازشیوں نے اپنا سارا پلان ان کے ساتھ شیئر کر رکھا ہے یا یہ باتیں جنات نے ان کے کان میں پھونکیں ہیں۔ کبھی اس وائرس کے وجود کو ہی جھٹلایا جاتا ھے تو دوسری جانب اسکے عجیب و غریب علاج بھی تجویز کیئے جاتے ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ جب وجود ہی نہیں تو علاج کس چیز کا؟ جیسے پہلے عرض کیا کہ اصل راز تو واللہ عالم کیا ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ مرض موجود بھی ہے اور جان لیوا بھی ہو سکتا ہےاور دیگر کئی متعدی امراض کے مقابلے میں بہت تیزی سے ایک سے دوسرے کو لگنے والا بھی ہے۔ یکم رمضان المبارک کو پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 12723 اور اموات 269 تھیں جبکہ آج 3, شوال کو یہ تعداد ستاون ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اموات بارہ سو کے لگ بھگ پہنچ چکی ہیں اور یہی نہیں جنوبی ایشیاء میں پاکستان کورونا کے پھیلاؤ میں سب سے اوپر اور اموات میں فی ملین افراد سب سے آگے ہے۔ اب کوئی ان سازشی تھیورییوں کے تخلیق کاروں سے پوچھے کہ کورونا کو مشکوک بنا کر اور عوام کو بد احتیاطی کی ترغیب دے کر کس کی خدمت انجام دی جارہی ہے اور عوام کو گمراہ کر کے اور انہیں ایک وبا کے منہ میں جھونک کر کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں؟ یہ بات بجائے خود ایک معمہ ہے۔
ساری دنیا میں مہینوں اور دنوں میں لاکھوں افراد کو شکار کرنے والی اس عالمی وبا کے پھیلاؤ سے اپنے پیارے وطن کے عزیز لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اس ملک کے کراچی سے خیبر تک کے ڈاکٹر کیا کر سکتے تھے؟ ظاہر ہے سب سے پہلے عوام میں اس بیماری سے متعلق شعور اور آگاہی پیدا کرنے کی کاوش کر سکتے تھے اور یہی انہوں نے کیا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ معاشرے کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور اس وبا سے براہ راست متعلق ہونے کی وجہ سے انکی بات سنی جاتی، ان سے اسکے بچاءو اور علاج کے سلسلے میں سفارشات طلب کی جاتیں، انکی باتوں کو طاقت کے ایوانوں میں اہمیت دی جاتی، انکی ذات کے لیے نہیں بلکہ اس قوم کی فلاح کے لئیے، اس ملک کے عوام کی حفاظت کی خاطر۔ انکو منافقانہ سلیوٹ مارنے کے بجائے ان کو عملاً یہ یقین دلایا جاتا کہ آپ اگر اس ان دیکھے دشمن سے مستقل ہر مقام اور ہر جگہ پر نبرد آزما ہیں تو حکومت، اپوزیشن، پارلیمان، مقننہ، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے سب کے سب آپ کی حمایت پر کھڑے ہیں، حکومت وقت ڈاکٹروں کی توہین اور انکے خلاف بے سروپا الزامات روک تھام کے لیے کوئی آرڈنینس جاری کرتی، انکی حفاظت کو یقینی بناتی اور انکو اور انکے گھر والوں کو ذہنی سکون بہم پہنچانے کی کوشش کرتی تاکہ وہ کامل یکسوئی سے اپنا کام کرتے رہیں۔ مگر افسوس سب کچھ اسکے برعکس ہی ہوا اور ہو رہا ہے اور اسکے بجائے گویا فرنٹ لائینرز کے خلاف ایک محاذ قائم ھے، من گھڑت، جھوٹے اور بے سر وپا الزامات کی ایک بوچھاڑ ہے کہ جسکا سامنا ڈاکٹرز کمیونٹی کو کرنا پڑا اور کرنے پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر “پینک” پھیلا رہے ہیں، بلاوجہ ڈرا رہے ہیں، عوام کو ڈپریس کر رہے ہیں، کورونا ورونا کچھ نہیں۔ یہ اور اسطرح کی باتیں زبان زد عام ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ اور اگر واقعی ایسا ہے تو یہ پاگل ڈاکٹر بلا وجہ پینتیس سے چالیس ڈگری میں یہ کفن نما لباس زیب تن کیئے کیوں مریضوں کے ارد گرد منڈلا رہے ہیں؟ کیوں ڈھائی تین ہزار سے زائد طبی اور نیم طبی افراد اور ان کے ساتھ انکے ہزاروں اہل خانہ قید تنہائی کا عذاب جھیل رہے ہیں؟ ان میں پروفیسرز اور ہسپتالوں کے ڈائریکٹرز اورسپریٹنڈینٹس بھی شامل ہیں اور ہاوس جانب کرنے والے نئے نئے ڈاکٹرز بھی، اسپیشلسٹ بھی ہیں اور فیملی فزیشن بھی، نرسیس بھی شامل ہیں اور ٹیکنیشن اور خاکروب بھی۔ یہ کس لئیے؟ یقیناً اس لیے کہ وہ مشکل گھڑی سے اپنی قوم کو بچانا چاہتے ہیں ۔ شاید اسی لیئے کورونا کے متعلق آگہی دینا چاہتے ہیں۔ تو گویا وہ تو انبیاء کی سنت اپنائے ہوئے ہیں کہ امید بھی دلاتے ہیں اور ڈر بھی سناتے ہیں۔
اللہ سبحان و تعالی کے انبیاء بھی دنیا میں خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے ہی بن کر آئے تھے۔ بندے کہہ دیتے کہ قیامت اور آخرت کے مناظر سن کر تو ھم ڈپریشن میں چلے جائیں گے۔
پاکستانی بے خوف لوگ ہیں، صرف اس وبا ہی سے نہیں، اس وبا کے زمانے میں بھی خوف خدا سے کوسوں دور ہیں ۔ کاروبار بند ہیں مگر جہاں ہے وہاں چور بازاری اور ذخیرہ اندوزی جاری ہے ، یوٹیلیٹی اسٹورز اور پائیلٹوں کی ہڑتال بھی ہوئی اور مطالبات کے منظور ہونے تک جاری رہی۔ شاید ھمارا مزاج بھی یہی ہے۔ ھم اللہ کی نافرمانی کر کے خوفزدہ نہیں ہوتے اور تو ان بے چارے ڈاکٹروں کی کیا حیثیت ہے؟ اس یقینی انجام کی کہ جسکی خبر صادق و مصدوق نے دی ہے، اسکی طرف سے بھی بے پرواہ ہیں اور ہر گز، اس دن سے کہ جسکا وعدہ ہے، کسی قسم کے ڈپریشن کا شکار نہیں۔ بڑے سے بڑا گناہ کریں گے مگر ڈپریس نہیں ہوں گے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ توکل اور شفاعت کے غلط تصورات سے آراستہ اس قوم کو سمجھانے کی ہر کاوش منفی ہی گردانی جائے گی۔ ڈاکٹروں کی مشکل یہ ہے کہ وہ کسی درد اور تکلیف کو براہ راست محسوس کرتے ہیں اور اور اسکی ممکنہ پیچیدگیوں کا اندازہ کر کے خود بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ تو بالعموم بھی اور اس موجودہ وبا میں تو بالخصوص اپنی اور اپنے گھر والوں کی پرواہ کیئے بغیر اس وبا سے نبردآزما ہیں چنانچہ نہ صرف اس مرض میں مبتلا بلکہ اس سے زیادہ اسکے خوف میں مبتلا افراد کو امید بھی دلاتے ہیں اور صحت مند ہونے کی نوید بھی سناتے ہیں مگر اپنی قوم کے غیر ضروری بے پرواہ لوگوں کو اسکے حقیقی اور ممکنہ نتائج کا خوف بھی دلاتے ہیں کہ وہ اسکو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ لگ بھگ 80% فیصد متاثر ہونے والے افراد کو یا تو علامات ہوتی نہیں یا بہت معمولی ہوتی ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے سانس سے وینٹیلیٹر کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتے بھی دیکھا ہے، اس مرض کو وہم سمجھنے والوں کے لیے اسکو حقیقت بنتے بھی دیکھا ہے۔ زندگی سے موت کا سفر دیکھا ہے۔ گو کہ اس راہ میں انکو ان حالات میں بھی کبھی بکاؤ، کبھی حکومتی ایجنٹ، کبھی قصائی کہا جاتا رہا ھے اور کہیں ضروری حفاظتی لباس کا مطالبہ کرنے پر جان پیاری ہونے کے طعنے دئیے جا رہے ہیں تو کبھی چائے کے ایک کپ پر مطعون قرار دیا گیا۔ اس عرض وطن میں ڈنڈے ، دھمکیاں ، گھرکیاں، جرمانے، اور حتی کہ قید سے انکو خراج تحسین پیش کیا جاتا رہا ہے مگر اس ملک و قوم کی خد مت کا جذبہ لیے بیرون ملک کی پر آسائش اور پر تعیش اور اس سے بڑھ کر حقیقی عزت کی زندگی کو ٹھکرا کر اپنے وطن میں رہ جانے والے ان دیوانوں کو شاید آخرت میں ملنے والے صلہ کا یقین بہت پختہ ہے تب ہی تو بنیادی حفاظتی لباس کے بغیر بھی مریضوں کی جان بچانے کی کوشش میں بلا تامل و بلا تعطل سرگرداں ہیں۔ اور اب تو حال یہ ہے کہ اس جان جوکھوں کی خدمت کے بدلے مریضوں کے رشتہ داروں کے تشدد اور دہشتگردی کا بھی نشانہ بن رہے ہیں جبکہ ارباب اختیار جن کی غلط پالیسیوں کا یہ شاخسانہ ھے ، خاموش تماشائی بنی ہوئی ھے۔ اسے ڈاکٹروں کی نہ تو جان کی پرواہ ھے اور نہ ان کی عزت کا کچھ خیال۔

چاہا ہے اِسی رنگ میں لیلائے وطن کو
تڑپا ہے اِسی طور سے دِل اِس کی لگن میں
اور
پورے کئے سب حرفِ تمنا کے تقاضے
ہر درد کو اُجیالا ہر اک غم کو سنوارا
واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا
تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی
خیریتِ جاں، راحتِ تن، صحتِ داماں
سب بھول گئیں مصلحتیں اہلِ ہوس کی
اِس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پسِ زنداں کبھی رسوا سرِ بازار
گرجے ہیں بہت شیخ سرِ گوشہؑ منبر
کڑکے ہیں بہت اہلِ حکمَ بر سرِ دربار
چھوڑا نہیں غیروں نے کبھی ناوکِ دُشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت
اِس عشق، نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دِل
ہر داغ ہے اِس دِل میں بجز داغِ ندامت

مضمون نگار: ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی
یہ مضمون مورخہ 27 مئی 2020ء، روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا
لنک: https://www.nawaiwaqt.com.pk/E-Paper/karachi/2020-05-27/page-7

Leave a Comment

Your email address will not be published.