کورونا پی سی آر نیگیٹو آنے کے بعد بھی مریض کو کورونا کیوں لیبل کردیا جاتا ہے؟

آجکل یہ سوال اکثر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ مریض کا کرونا کا ٹیسٹ نیگیٹو تھا لیکن اسے پھر بھی ڈاکٹروں نے کورونا کے کھاتے میں ڈال دیا ۔ نتیجتاً لوگ سازشی خیالات کو جنم دینے لگے ۔
طب کی دنیا میں بیماریوں کی تشخیص میں زیادہ تر نیگیٹو ٹیسٹ کی بنیاد پہ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کسی شخص کو وہ بیماری نہیں جس کا ٹیسٹ کروایا گیا ۔ لیکن اگر ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو اسے وہ بیماری ضرور یا زیادہ تر ہوتی ہے۔ آسان مثال یہ ہے کہ جب کوئی مریض عام حالات میں بخار ، سردی لگنے جیسی علامات کیساتھ آتا ہے تو ڈاکٹرز ملیریا کا سوچتے ہیں اور اسکا ٹیسٹ کرواتے ہیں ۔ اگر ملیریا کے بنیادی ٹیسٹ نیگیٹو ہوں لیکن علامات کی بنیاد پہ معالج کو ملیریا کا ہی خدشہ ہو تو وہ اسے ملیریا لیبل کرتا ہے اور اسی کا علاج کرتا ہے ۔ نتیجتاً زیادہ تر مریض ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ ملیریا برصغیر بشمول پاکستان میں ایک مستقل نوعیت کی بیماری ہے ۔ یہی معاملہ ٹی بی ، ٹائیفائڈ اور دیگر بیماریوں کے ساتھ اکثر ہوتا ہے ۔ سمجھانا یہ مقصود تھا کہ کسی بیماری کی تشخیص میں تین چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں نمبر ایک مریض کی علامات بشمول ہسٹری ، دوسرے نمبر پہ لیبارٹری کی رپورٹس اور تیسرے اور آخری نمبر پہ ریوڈیالوجی کی رپورٹس یعنی ایکس رے یا سی ٹی اسکین وغیرہ ۔ ان تینوں چیزوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ موجود ہے ۔ لیکن جیسا کہ پہلے عرض کردیا گیا کہ لیبارٹری اور ریڈیالوجی کی رپورٹ کسی بیماری میں نیگیٹو ہونے کے باوجود بھی ظاہری علامات کی بنیاد پہ کسی شخص کو کسی بیماری کیساتھ تشخیص کر کے علاج کیا جاتا ہے اور وہ ٹھیک ہوجاتا ہے ۔ طب کی دنیا میں یہ اصول صرف آج سے نہیں صدیوں سے رائج ہے ۔ ویسے بھی کسی بیماری کی تشخیص کے جدید طریقے تو زیادہ تر بیسویں صدی کی پیداوار ہیں اس سے پہلے معالج ظاہری علامات اور ہسٹری کی بنیاد پہ ہی مریضوں کی تشخیص اور علاج کرتے تھے ۔

کرونا کی وباء نے پوری دنیا کو ہلا دیا ، واٹس ایپ اور گوگل کی دنیا میں طب کے تکنیکی اصول اور معلومات عام لوگوں میں بھرپور طریقے سے ڈسکس ہوئیں اور نتیجتاً لوگ کنفیوز بھی ہوۓ اور سازشی تھیوریز بھی خوب پروان چڑھیں ۔ کرونا کی تشخیص بھی بالکل ویسے ہی ہوتی ہے جیسے مندرجہ بالا کچھ بیماریوں کی ہوتی ہے جن کا ذکر کیا گیا ۔ علامات ظاہر ہونے پہ ا بتدائی تشخیص ہوتی ہے اور پی سی آر کروایا جاتا ہے ۔ اگر علامات موجود ہوں اور پی سی آر نیگیٹو ہو تو پی سی آر کو کئی بار دوہرایا جاتا ہے اور ایکس رے اور سی ٹی اسکین سے مدد لی جاتی ہے ۔ پی سی آر پوزیٹو آنے کی صورت میں کرونا کنفرم ہوجاتا ہے ۔ اگر پھر نیگیٹو ہو اور ظاہری علامات کے ساتھ ایکس رے یا سی ٹی اسکین میں کرونا کی علامات آجائیں تو بھی کرونا تشخیص کیا جاتا ہے ۔ پی سی آر ٹیسٹنگ کی کرونا میں وائرس کو ڈیٹیکٹ کرنے کی صلاحیت ساٹھ سے ستر فیصد تک ہے یعنی کرونا ہونے کی باوجود بھی تیس سے چالیس فیصد تک امکان اس بات کا ہی ہے کہ پی سی آر نیگیٹو آ جاۓ ۔ اسی لیئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک یا دو پی سی آر کے بعد تیسرا ٹیسٹ پوزیٹو آجاۓ ۔

اس تحریر میں علم طب کی کچھ بنیادی چیزوں کو آسان الفاظ میں سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی ہے ۔ مجھے اس بات کا علم ہے کہ اس قسم کی ٹیکنیکل معلومات نہ سمجھنے کی وجہ سے عام لوگ کنفیوز ہورہے ہیں۔ میری کنفیوز، خوف، زدہ اور پریشان لوگوں سے گزارش ہے کہ کورونا کے حوالے سے کوئی پریشانی ہوتو مجھ انباکس میسیج کے زریعے مطلع کردیں ۔ کوشش کروں گا کہ انکی مشکل دور کی جاۓ ۔ الحمدللہ آج بھی فون کے زریعے کرونا کے کئی مشتبہ اور کنفرم مریضوں سے رابطہ ہےاور مسلسل رہنمائی کا سلسلہ جاری ہے ۔
البتہ سازشی نظریات رکھنے والے افراد سے مباحثے سے حتیٰ الامکان پرہیز کررہا ہوں کہ یہ صرف وقت کا ضیاع ہے ۔ اسلئے ایسے حضرات پوسٹ پہ کمنٹ کرکے اپنے آپ کو مایوس نہ کریں اور اپنی دنیا میں خوش رہیں ۔

تحریر: ڈاکٹر ذیشان حسین انصاری کنسلٹنٹ پیتھولوجسٹ

Leave a Comment

Your email address will not be published.