Corona Precautions and Treatment کورونا احتیاط اور علاج

مضمون نگار۔ ڈاکٹر خالد مشتاق
زلزلہ کے جھٹکے کم یا زیادہ شدت کے ہوں، انسان ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ زلزلہ سے محفوظ رہنے کے لیے مضبوط عمارتیں اور پل بنائے جاتے ہیں۔ اگر زلزلہ کی شدت زیادہ ہو اور وہ زیادہ دورانیہ کا ہو تو پرانی کمزور عمارتیں گرجاتی ہیں یا بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ مضبوط عمارتیں اور پل کم متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا میں پائے جانے والے وائرس میں بھی زلزلہ کی طرح ہوتے ہیں۔ طاعون کی وبا, 1918 کا اسپین کا فلو ، خسرہ، فلو، اور بہت سی وائرل بیماریاں ہیں، جو وائرس کے ذریعے پھیلی ہیں۔ سانس کے ذریعے پھیلنے والے اکثر وائرس کا دنیا میں اب تک کوئی تریاق نہیں۔ انسان ان وائرس کے سامنے ایسے ہی ہے جیسے زلزلہ کے سامنے انسان بے بس ہوجاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ زلزلہ کی اطلاع ہوتی ہے تو کہتے ہیں گھر سے باہر کھلی جگہ پر رہیں نقصان پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔ سانس سے پھیلنے والے وائرس مثلاً کورونا کی وبا کا خطرہ ہو تو کہتے ہیں کہ گھر کے اندر رہیں۔ وائرس کے لگنے کے امکانات کم ہوں گے۔ زلزلہ کی مثال کو سامنے رکھ کر ہم باآسانی کورونا کو سمجھ سکتے ہیں۔ جسم جتنا مضبوط ہوگا کورونا وائرس سے اتنا کم متاثر ہوگا۔ نوجوانوں میں عام طور پر قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے اس لیے وہ اگر کورونا سے متاثر ہو بھی جائیں تو زیادہ مسائل کا شکار نہیں ہوتے لیکن سب سے خطرناک بات جو کورونا وائرس کی ہے وہ یہ ہے کہ نوجوان یہ وائرس اپنے بزرگوں یا خواتین کو باآسانی منتقل کردیتے ہیں اور وہ شدید بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ڈاکٹرز یہ ہدایت کرتے ہیں اللہ کے واسطے اپنے بزرگ والدین، نانا، دادا، نانی، دادی اور خاندان کے دوسرے بڑے افراد کو بچانے کے لیے احتیاط کریں۔ آپ کی وجہ سے یہ بزرگ بیمار ہوگئے تو دگنا نقصان ہوگا۔ بزرگ کی صحت خراب ہوگی اور آپ ساری عمر ذہنی پریشانی میں رہیں گے کہ والدین بزرگوں کو میری وجہ سے شدید بیماری ہوئی۔ کورونا کی وبا کے شروع ہونے سے اب تک میرے 50 سے زائد مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ صرف ایک مریض کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ وہ بھی صحت یاب ہو کر گھر آگئے۔ ان کو کورونا کی وجہ سے دل کا دورہ پڑا تھا۔ گھر پر ہی تقریباً 99 فی صد مریضوں کا علاج ہوسکتا ہے۔ ہم نے گھر پر مریضوں کو رکھا۔ مریضوں کو ٹیلی فون پر، واٹس ایپ ویڈیو پر دیکھتے رہے اور وہ صحت یاب ہوگئے۔ میرے اب بھی 2 درجن مریض اس طرح ٹیلی فون پر زیر علاج ہیں۔ جن میں سے 8 مریض آکسیجن پر ہیں۔ ان میں 8 کی آج مدت ختم ہوگئی اب بغیر آکسیجن بالکل ٹھیک ہیں۔ مریضوں کو گھر پر یہ ہدایات دی گئیں۔
اپنےآپ کو کمرے میں الگ رکھیں۔ اگر کمرہ الگ نہیں تو دور چارپائی پر مریض لیٹیں۔
ماسک ہر وقت باندھیں۔ مرد مریض اپنے چہرے کے بال کم کرلیں تا کہ ماسک چہرے کے ساتھ چپک جائے۔ اگر ماسک چہرے پر نہیں چپکے گا تو تیماردار کے بیمار ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ یہی احتیاط مریض کا خیال رکھنے والا کرے ماسک اچھی طرح چہرے سے چپکا کر رکھے۔
باتھ روم کا نلکا، بیڈ اور دیگر اشیا کو بلیچ والے پانی سے واٹر گن کے ذریعے صفائی کرتے رہیں۔
کورونا کے مریض کو کھانسی ہوتی ہے، گلا خراب، منہ کا ذائقہ، اور بو کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ یہ علامات ہوں تو فوراً ٹیسٹ کرائیں یا الگ کمرے میں رہیں۔
مریض کے جسم میں کورونا وائرس داخل ہو کر جو خرابیاں پھیلاتا ہے ان خرابیوں کے لیے اینٹی آکسیڈنٹ غذا کا کہا جاتا ہے۔
مثلاً ہمارے مریض کھانسی وغیرہ کے لیے یہ استعمال کرتے رہے۔
ادرک کا قہوہ دن میں 3 مرتبہ، لیموں، شہد ڈال کر۔ لیکن ذیابیطس والے صرف لیموں ڈال سکتے ہیں۔ دار چینی اور چھوٹی الائچی کی دودھ والی چائے 2 مرتبہ، لہسن اور پیاز کا استعمال کریں۔ پودینہ کے پتے گرم پانی میں ڈال کر بھاپ لیں، پودینہ سلاد کے طور پر استعمال کریں۔ اگر مریض کو معدے میں مسئلہ نہ ہو تو ہرا دھنیا یا لہسن کی چٹنی کم مرچ کے ساتھ بہترین اینٹی آکسیڈنٹ غذا ہے۔ ڈسپرین کی 300 ملی گرم والی گولی آدھی روزانہ یا 75 ملی گرم والی گولی 2 روزانہ ایک ماہ تک لینا ہے- مریض کو الٹا، اوندھا لیٹنا ہے۔ کمر اوپر اور سینہ پیٹ نیچے اس طرح سانس میں آسانی ہوتی ہے۔ سانس میں مشکل ہو تو پلس اوکسی میٹر انگلی پر لگا کر آکسیجن چیک کریں۔ 94 سے کم ہو الٹا لیٹیں اور پھر بھی کم ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ ہم نے مریضوں کو بتایا تھا کہ ایک 2 لٹر تک آکسیجن لیں اور پھر فون کرلیں۔
کچھ مریضوں کو پروفیسر ڈاکٹر سہیل اختر کے مشورہ سے علامات کے مطابق اسٹیرائڈ بھی دیے اور وہ بہتر ہوگئے۔ آج کل بی بی سی کی رپورٹ سننے کے بعد لوگ خود دوا لے رہے ہیں۔ بہت خطرناک ہے۔ خود نہ لیں، نہ ہی یہ کوئی نئی دوا ہے۔ پاکستانی ڈاکٹرز یہ دوا پہلے سے استعمال کررہے تھے، مریض کی حالت کے مطابق کس کو کتنی، کب دینی ہے اور کب نہیں دینی، یہ فیصلہ ڈاکٹر کرے گا۔ مریضوں کے چند سوالات میں آپ کو بتاتا ہوں۔
کیا کورونا کا ٹیسٹ ضروری ہے۔ اگر خوشبو، بدبو کا فرق نہ ہو، ذائقہ غائب، بخار، کھانسی، گلا خراب وغیرہ ہو تو فوراً آئسولیٹ (الگ ہوجائیں)۔ کئی مریض ایسے ہیں جو اسپتال میں کورونا کا ٹیسٹ کروانے لائن میں لگے اور وہاں سے کورونا کا انفیکشن لے آئے۔ کورونا کے بارے میں یاد رکھیں۔ جتنا زیادہ کورونا کے وائرس کی تعداد ہوگی اور تنگ جگہ ہال میں زیادہ وقت 15 منٹ سے زیادہ رہیں گے تو امکانات بڑھ جائیں گے۔
کورونا کا ٹیسٹ کے بارے میں بتائیں؟
ٹیسٹ مثبت آئے یا نہ آئے اصل اہمیت علامات کی ہے۔ اگر ایک مرتبہ ٹیسٹ مثبت آئے تو دوبارہ کرانے کی اہمیت نہیں۔ وائرس 11 دن کے بعد جانا شروع کرتا ہے۔ 14 دن کے بعد چلا جاتا ہے۔ اگر دوبارہ ٹیسٹ کرائیں تو 15 دن بعد بھی مثبت آجاتا ہے۔ کیا دوبارہ انفیکشن ہوگیا ڈائو میڈیکل یونیورسٹی کی پیتھالوجسٹ ڈاکٹر فرخ ابوحازم نے بتایا کہ یہ پی سی آر ٹیسٹ ہوتا ہے۔ ناک سے جو مواد لیتے ہیں اس میں موجود وائرس کے آر این اے کی موجودگی کا مطلب ہے ٹیسٹ مثبت ہے۔ لیکن 15 دن بعد بھی کرائیں تو مثبت ہونے کا مطلب ہے مردہ وائرس کے ٹکڑے ہیں۔ جسم کو ان سے نقصان نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب انفیکشن نہیں ہے۔
کورونا وائرس جسم کے کس حصے کو نقصان پہنچاتا ہے؟ سانس کیوں پھولتی ہے؟ کورونا وائرس سانس کی نالی کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچتا ہے۔ آکسیجن کے جسم میں داخلے کے راستے کو بلاک کرتا ہے۔ خون کی نالیوں کو زخمی کرکے ان میں گڑھے بناتا ہے۔ خون آکسیجن لے کر جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتا ہے۔ ہیموگلوبن لوہے کی مال گاڑی ہوتی ہے اس کو نقصان پہنچاتا ہے وہ صرف سوزوکی جتنی آکسیجن لے جاسکتی ہے۔ ان وجوہات سے آکسیجن کی جسم میں کمی ہوتی ہے سانس پھولتا ہے۔ خون کی باریک نالیوں کے زخمی ہونے سے خون جمع ہو کر لوتھڑے بن جاتے ہیں۔ جو دل میں جائیں تو دل کا دورہ، دماغ میں جائیں تو فالج، گردہ یا پھیپھڑوں کو تباہ کرسکتے ہیں۔ خون کو جمنے سے بچانے کے لیے ڈاکٹر ڈسپرین کی آدھی گولی دیتے ہیں۔ جو ڈاکٹر ایک ماہ سے زیادہ بھی دے سکتے ہیں۔
کورونا کے مریض کی اچانک حالت کیوں بگڑتی ہے؟
جب وائرس کے حملے کے جواب میں جسم کا دفاعی نظام بہت زیادہ ردعمل دیتا ہے تو بڑی تعداد میں سپاہی آتے ہیں جیسے ایک طوفان۔ اسے سائٹوکارن کا طوفان کہتے ہیں۔ اس کو قابو کرنے کے لیے ڈاکٹرز اسٹیرائڈ اور دیگر ادویات دیتے ہیں۔
اہم بات:
کورونا کے زیادہ مریض خون کی نالیوں اور سائٹوکارن کے طوفان کی وجہ سے مشکلات میں آتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر سے رابطہ رکھ کر باآسانی حل ہوجاتا ہے۔ اس لیے آکسی میٹر سے آکسیجن نوٹ کریں اور اپنے ڈاکٹر کو بتائیں۔ 94 سے کم نہیں ہونی چاہیے۔
زیادہ عمر کے افراد، ذیابیطس کے مریض اور بلڈ پریشر کے مریض کے لیے کیوں زیادہ مسائل ہوتے ہیں؟ وہ زیادہ کیوں احتیاط کریں؟ کیوں مسجد/ باہر نہ جائیں؟
جب انسان کی عمر زیادہ ہوتی ہے تو اس کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے۔ خون کی نالیوں کی صحت بھی جوانی جیسی نہیں رہتی۔
ذیابیطس کے مریضوں اور ہائی بلڈ پریشر میں خون کی نالیوں میں کمزوری آجاتی ہے۔ وہ بہت نازک ہوجاتی ہیں۔ اس لیے کورونا وائرس اگر ایسے افراد کو ہوجائے تو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ دل کا دورہ، فالج، گردہ کو نقصان کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس سے بچنے کا آسان طریقہ ماسک پہننا، فاصلہ سے رہنا اور باہر جانے سے پرہیز کرنا ہے۔
کورونا اتنا خطرناک ہے تو خود بخود کیسے چلا جاتا ہے؟
دنیا میں ہر چیز کو ایک وقت کے بعد جانا ہے۔ نزلہ 5 سے 7 دن میں چلا جاتا ہے۔ کورونا وائرس 11 دن بعد جانا شروع کرتا ہے۔ اور 14 دن بعد مریض کا سو فی صد الگ رہنا ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد زلزلے سے بچنے کے لیے جس طرح ہمیں قوت مدافعت مضبوط کرنے کے لیے سبزیاں استعمال کرنے اور فاسٹ فوڈ، باہر کے کھانے سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے۔

مضمون کی تیاری میں چینی روایتی ادویات کے ڈاکٹر حسنین اور آغا خان ہسپتال کی ڈاکٹر فارعہ کے تعاون کے شکر گزار ہیں

Reference of Antioxidant Antiviral Food: www.thepharmajournal.com
Efficacy of Garlic & Onion Against Viruses: http://201.org/10-26452/igvps

3 thoughts on “Corona Precautions and Treatment کورونا احتیاط اور علاج”

  1. Humayoun Nizam Moghal

    JazakAllah Dr Azmat interview given to anchor Imran Riaz Khan helps us to much but your guidelines are more Allah app ku sehat dey Ameen

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *